Monday, October 2, 2023

استاد کی تنخواہ

پکاسو (Picasso) سپین میں پیدا ہونے والا ایک بہت مشہور مصور تھا۔  اس کی پینٹنگز پوری دنیا میں کروڑوں اور اربوں روپے میں بک رہی تھیں۔


 ایک دن جب وہ سڑک پر چل رہا تھا تو ایک عورت کی نظر پکاسو پر پڑی اور اتفاق سے اس نے اسے پہچان لیا۔  وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی اور کہنے لگی، "جناب، میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں۔ مجھے آپ کی پینٹنگز بہت پسند ہیں۔ کیا آپ میرے لیے بھی پینٹنگ بنا سکتے ہیں؟"


 پکاسو مسکرایا اور بولا، "میں یہاں خالی ہاتھ آیا ہوں۔ میرے پاس کوئی اوزار نہیں ہے۔  پھر کیسے میں تمہارے لیے پینٹنگ بناؤں؟”

 لیکن عورت اب ضد کر رہی تھی۔  اس نے کہا، "مجھے ابھی ایک پینٹنگ بنا دو۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ ہم دوبارہ کب ملیں گے۔"


 پکاسو نے پھر اپنی جیب سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اپنے قلم سے کاغذ پر کچھ کھینچنے لگا۔  تقریباً دس منٹ میں پکاسو نے کاغذ پر ایک پینٹنگ بنائی، اسے عورت کے حوالے کیا اور کہا، "یہ پینٹنگ لے لو، تمہیں اس کے لیے ایک ملین ڈالر آسانی سے مل سکتے ہیں۔"


 عورت بہت حیران ہوئی۔  اس نے اپنے آپ سے کہا، "اس پکاسو نے جلدی سے یہ قابل عمل پینٹنگ صرف 10 منٹ میں بنائی، اور یہ مجھے بتاتا ہے کہ یہ ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ ہے۔"  لیکن ایک لفظ کہے بغیر اس نے پینٹنگ اٹھائی اور خاموشی سے گھر آ گئی۔  اس کا خیال تھا کہ پکاسو اسے بے وقوف بنا رہا ہے۔  وہ بازار گئی اور پکاسو کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی قیمت دریافت کی۔  جب اسے پتہ چلا کہ پینٹنگ ایک ملین ڈالر تک حاصل کر سکتی ہے، تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔


 وہ دوبارہ پکاسو کے پاس بھاگی اور کہنے لگی، "جناب، آپ ٹھیک کہتے ہیں، ان تصویروں کی قیمت تقریباً ایک ملین ڈالر ہے۔"


 پکاسو مسکرایا اور بولا، ’’میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔


 عورت نے کہا، "جناب، کیا آپ مجھے اپنا شاگرد بنائیں گے؟ مجھے پینٹ کرنا سکھائیں، میرا مطلب ہے کہ جس طرح آپ نے دس منٹ میں ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ بنائی ہے، میں 10 گھنٹے میں اچھی پینٹنگ بنا سکتی ہوں، مگر 10 منٹ میں نہیں۔اس طرح تم مجھے تیار کرو۔"


 پکاسو مسکرایا اور بولا، "یہ پینٹنگ جو میں نے 10 منٹ میں بنائی ہے اسے سیکھنے میں مجھے “تیس سال”لگے، میں نے اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال اس کام میں گزارے ہیں۔


 عورت چونک کر پکاسو کو دیکھنے لگی۔ 


 ایک “استاد” کو 40 منٹ کے لیکچر کے لیے ادا کی گئی تنخواہ، اوپر کی کہانی کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔  استاد کے ایک ایک جملے کے پیچھے اس کی کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے۔


 معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ “استاد”نے تو بولنا ہی ہے۔  بس اتنا ہی ملنا چاہئے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ باوقار عہدوں پر فائز ہیں، ان میں سے اکثر کسی نہ کسی “استاد” کی وجہ سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔


 اگر آپ بھی “استاد” کی تنخواہ کو مفت سمجھتے ہیں تو ایک وقت میں 40 منٹ کا موثر اور بامعنی لیکچر دیں۔  آپ کو فوری طور پر احساس ہو جائے گا کہ آپ کتنے قابل ہیں! 

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں

 ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا،

قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔

(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں)

بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی،

اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا

جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا.

چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،

اس نے کہا "نسلی نہیں ھے"

بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،،،،

اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے.

مسئول کو بلایا گیا،

تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟

اس نے کہا،

جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے

جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے.

بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا،

مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا.

اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا،

چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،

اس نے کہا.

طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن "شہزادی نہیں ھے،"

بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا،

معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی،

چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا.

بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، "تم کو کیسے علم ھوا،"

اس نے کہا، اس کا "خادموں کے ساتھ سلوک" جاہلوں سے بدتر ھے،

بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، "بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں" بطور انعام دیں.

ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا.

کچھ وقت گزرا،

"مصاحب کو بلایا،"

"اپنے بارے دریافت کیا،" مصاحب نے کہا، جان کی امان،

بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا:

"نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے"

بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا،

سیدھا والدہ کے محل پہنچا، "والدہ نے کہا یہ سچ ھے"

تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔

بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا،

"تجھے کیسے علم ھوا" ؟؟؟

اس نے کہا،

"بادشاہ" جب کسی کو "انعام و اکرام" دیا کرتے ھیں تو "ہیرے موتی، جواہرات" کی شکل میں دیتے ھیں،،،،

لیکن آپ "بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں" عنایت کرتے ھیں

"یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں "

کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ھے.

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔

عادات، اخلاق اور طرز عمل ۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ھیں..

بلغاریہ کی بابا وانگا کی 2024 کے بارے میں پیش گوئیاں

  معروف خاتون نابینا نجومی آنجہانی بابا وانگا جن کا تعلق بلغاریہ سے تھا،انہوں نے گزشتہ سالوں کی طرح 2024 کے حوالے سے بھی مرنے سے قبل کچھ پی...