Thursday, September 9, 2021

صحرائے تھر کے بچے کی لاجواب زہانت

 اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں کہ سندھ میں صحرائے تھر میں کسی مقام پر ڈیرا لگا رکھا تھا، ایک بستی سے بہت سے لوگ نکلتے بکریاں جانور چرانے جاتے کچھ شہر کو جاتے کچھ مختلف اجناس بیچنے جاتے۔


اُن ہی لوگوں میں ایک نو عمر لڑکا پندرہ سولہ سال کا سر پر تربوز کا ٹوکرہ رکھ کر نکلتا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک ننھی سی بچی جس کی عمر پانچ چھ سال ہوگی وہ چلتی۔ 


میں نے پوچھا تو پتہ چلا کہ ماں باپ مرچکے ہیں اس لیے یہ لڑکا تربوز اور کبھی خربوزے دوسری بستیوں میں جا کر بیچتا ھے اور بہن کو بھی ساتھ رکھتا ھے گھر اکیلے نہیں چھوڑتا۔


ایک دن صبح اشفاق صاحب نے اُسے بُلایا اور پوچھا کہ ایک بات تو بتاو صبح تم جب جاتے ہو تو تماری بہن تمارے پیچھے جب واپس آتے ہو تب بھی یہ تمارے پیچھے چلتی ھے حالانکہ اسے تمارے آگے تماری آنکھوں کے سامنے چلنا چاہیے اس طرح یہ تمارے دھیان میں رہے گی۔


اس پر اُس لڑکے نے جو جواب دیا وہ  جگر چھلنی کر گیا، کہنے لگا:

*“جناب آپکو پتا ھے گرمی سخت ھے اور سورج آگ برساتا ھے۔ جب میں سر پر ٹوکرا رکھ کر چلتا ہوں تو ٹوکرے سمیت میرا سایہ بڑا بنتا ھے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ میری بن ماں باپ کی بہن، میرے سایے میں رہے، میرے سائے میں چلے اور دھوپ سے بچی رہے۔”*


اشفاق احمد فرماتے ہیں کہ آنسو تو روکے نہ رکتے  تھے۔ ساتھ آہیں بھی نکل پڑیں۔ اُس صحرائی بچے کے یہ جملے سن  کر، بس اس ان پڑھ نو عمر  بچے نے عبادت کے ڈھنگ، بہنوں کے حقوق، چھوٹوں پر شفقت،  یتیم کی رکھوالی اور انسانیت؛ سب کچھ ان دو جملوں میں سمجھا دیا تھا

عورت کیا ہے


میں نہر کے کنارے بنے ڈھابے پہ مردہ دِلی کے ساتھ بیٹھا چائے کا انتظار کررہا تھا۔ دِل عجیب بوجھل سا تھا اور چہرے پہ بارہ بج رہےتھے۔

گاؤں کے ایک باباجی میرے پاس آ کے بیٹھ جاتےہیں اور کہتے ہیں  پُتر خیر ہے بڑا پریشان لگ رہا ہے۔ 

میں کمزور سی آواز میں کہتاہوں کہ بس بابا جی کیا بتاؤں ، گھر سے لڑ کر آیاہوں۔

میری بیوی کو پتہ نہیں کیوں میری باتیں سمجھ ہی نہیں آتیں۔ صحیح کہتےہیں عورت کی عقل اُس کے گھُٹنوں میں ہوتی ہے۔

بابا جی مسکرائے اور بولے جا وے جھلّیا تیرا وی کوئی حال نہیں۔

پَر پُتر یہ جس نے مثال بنائی ہے نہ کہ عورت کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے وہ خود کوئی پاگل ہی ہو گا۔

میں نے کہا "نہ بابا جی نہ آپ نہیں جانتے اِن عورتوں کو۔“

بابا جی بولے نہیں  پُتر تُو نہیں جانتا اصل میں عورت کو عورت کی شان کو ۔

یہ تو وہ ہے جس کے ساتھ رب اپنی محبت کو ملا رہا ہے۔

اتنے میں لڑکا چائے لے کر آ جاتا ہے اور میں چائے کی چُسکی لےکر پھر بابا جی کی طرف متوجہ ہو جاتا ہوں ۔

بابا جی اپنی چائے پِرچ میں ڈال کر ٹھنڈی کرنے لگ جاتے ہیں۔

بابا جی پِرچ سےہی چائے کی چُسکی لگا کے کہتے ہیں کہ واہ مزہ آ گیا چائے کا۔

چائے کی تعریف کرنے کے بعد بابا جی کہتے ہیں کہ سُن پُتر رب وہ ذات ہے جسے کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔ اُس ذات نے خود کی محبت کے بارے میں بتانا تھا کہ وہ انسان سے کتنی محبت کرتا ہے تو اُس نے ماں کا نام لیا کہ وہ ستّر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ جب کہ ماں ایک عورت ہے۔ 

بیٹی کواللّٰہ نے اپنی رحمت قرار دےدیا جبکہ بیٹی بھی ایک عورت ہے۔

پُتر میرا ماننا یہ ہے کہ ہم مرد، عورت کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔ کہاں عورت اعلیٰ ظرف اور فراغ دِل کی مالک اور کہاں ہم کَم ظرف اور تنگ دِل مرد۔

مجھے بابا جی کی باتیں لبھانے لگ گئیں تھیں۔

بابا جی بولےکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی بس اسی بات سے ہی تو عورت کی شان کا اندازہ لگا لے۔

جب وہ آس سے ہوتی ہے تو اپنی پسندکی سب چیزیں چھوڑ دیتی ہے اپنی اولاد کے لیے۔ جب اولاد جنم دیتی ہے تو زندگی اورموت کی کشمکش میں ہوتی ہے، پتہ ہی نہیں ہوتا کہ جیے گی یا مَر جائے گی۔

پتہ ہے پُتر بائیس ہڈیاں بیک وقت ٹوٹنے کے جتنا درد سہتی ہے ایک بچے کو جنم دیتے وقت۔ اتنا درد کبھی محسوس بھی کیا ہے تم نے۔؟

میں بابا جی کی باتوں سے لاجواب ہوتا جا رہاتھا اور آج عورت کے اصل مقام کا پتہ چل رہا تھا مجھے۔

بابا جی بولےابھی آگے سُن پُتر اورکلیجے پہ ہاتھ رکھ کے سُنِیں ذرا کہیں کلیجہ پھٹ ہی نہ جائے تیرا یہ کڑوا سچ سُن کے۔

پتہ ہے عورت کی سب سے بڑی خُوبی کیا ہے وہ بات بات پہ مرد کی طرح مردانگی نہیں دکھاتی، وہ مرد پہ تھپڑوں کی بارش نہیں کرتی۔

وہ مرد کو اُس کی اولاد کے سامنے گندی گالیاں نہیں دیتی۔ وہ غیرت کے نام پہ مردوں کے قتل نہیں کرتی۔ وہ بھوکے بھیڑیے کی طرح کسی پہ جھپٹ کے اس کا ریپ نہیں کرتی۔

وہ مردکو غُصے میں طلاق نہیں دیتی۔ وہ گلیوں بازاروں میں مرد پہ آوازیں نہیں کَستی۔

بابا جی کی باتیں سُن کے میں شرمندہ ہونے لگ گیا اور آنکھیں جھک گئیں میری۔ پسینے کی بوندیں میرے ماتھے پہ نمودار ہونا شروع ہو گئیں۔

بابا جی نے شاید میری شرمندگی محسوس کر لی تھی، اِسی لیے وہ تھوڑی دیر کے لیے چُپ ہو گئے۔

پھر بابا جی نے ڈھابے والے کو چائے کے کپ واپس لے جانے کے لیے آواز دےدی۔

اور پھر دوبارہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ پُتر تُو سمجھدار لڑکا ہے۔ بس ذرا جذباتی ہو جاتا ہے۔ 

بات کی نوعیت کو سمجھا کر اور پھر فیصلے کیا کر۔

پُتر ایک گھر میں روزانہ سب سے زیادہ بار جو نام لیا جاتا ہے وہ ایک ماں کا ہوتا ہے یا بڑی بہن کا اور یہ دونوں عورت ذات ہیں۔

ہمارے گھروں کا وجود عورتوں سےہے۔ گھر مرد نہیں بساتے پُتر عورتیں بسایا کرتی ہیں۔ گھر کی رونقیں عورتوں کے ہی توسط سے ہوتی ہیں بیٹا۔

ہر چیز سلیقے سے ملتی ہے، کپڑے صاف ستھرے ملتے ہیں، برتن دُھلےدُھلائے ملتے ہیں، بہترین کھانے ہمیں نصیب ہوتے ہیں۔

چھوٹے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال بخوبی سر انجام دی جاتی ہے تو پُتر یہ سارا جادو ایک عورت ہی چلاتی ہے ورنہ تو ایک سَگا باپ بھی اپنے چھوٹے بچے کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرتا۔

بچہ زیادہ روئے تو شوہر اپنی بیوی سے کہہ دیتا ہے کہ اِسے کمرے سے باہر لے جاؤ میری نیند میں خلل پڑ رہا ہے۔

پُترعورت بہت ہی پیاری چیز ہے۔ یہ مرد کے کردار پہ اُنگلیاں نہیں اُٹھاتی، یہ مرد کو اُس کے ماضی کے طعنے نہیں دیتی۔

پُتر عورت بیٹی ہے تو رب کی رحمت ہے۔ ماں ہے تو قدموں تلے جنت لیے پھرتی ہے۔

بابا جی کی باتیں سُن کے پتہ چل رہا تھا کہ عورت دنیا کی کتنی انمول دولت ہے 

وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ 

”وجود زَن سے ہے کائنات میں رنگ “

پھر بابا جی بولے کہ جا پتر گھر چلا جا تیرا چہرہ بتا رہا ہے کہ تو سب سمجھ گیا ہے اور اب تیرا جلدی گھر جانے کو دل کر رہا ہے۔

میں بابا جی کے قدموں میں بیٹھ گیا اور بابا جی کے ہاتھ چوم کے بولا کے شکریہ بابا جی آپ نے میری غلطی کو 

دیکھ کے کوئی سزا نہیں سنائی بلکہ میری غلطی کو سدھارا اور احساس کروایا کہ میں غلط ہوں 

مجھے سب کی عزت کرنی چاہیے

بابا جی مسکرائے اور میرے سر پہ ہاتھ پھر کے بولے جیتا رہے پُتر اور اب گھر جا ،گھر والے تیرا انتظار کررہے ہونگے۔

واپس گھر جاتے ہوئے میرے قدموں میں اعتماد تھا اور دل مطمئن۔

افغانستان کی نئی حکومت اور وزراء 2021

‏افغانستان  کے نئے وزرا کی مکمل فہرست

چیف آف آرمی سٹاف 

قاری فصیح الدین


وزیراعظم: ملا محمد حسن اخند

نائب وزیراعظم اول: ملا عبدالغنی برادر

نائب وزیراعظم دوم: ملا عبدالسلام حنفی

وزیردفاع: مولوی محمد یعقوب

وزیرداخلہ: سراج الدین حقانی

وزیرخارجہ: مولوی امیرخان متقی

وزیرخزانہ: ملا ہدایت اللہ بدری‏وزیرتجارت: قاری دین حنیف

وزیرقانون: مولوی عبدالحکیم

وزیرتعلیم: مولوی نوراللہ منیر

وزیراطلاعات: ملا خیراللہ خیرخواہ

وزیرحج و اوقاف: مولوی نورمحمد ثاقب

وزیرسرحدات و قبائل: ملا نوراللہ نوری

وزیرمہاجرین: حاجی خلیل الرحمن حقانی

وزیرمواصلات: نجیب اللہ حقانی

وزیرہائیرایجوکیشن: عبدالباقی

‏وزیرمعدنیات: ملا محمد یونس اخندزادہ

وزیر پٹرولیم و کان کنی: ملا محمد عیسی اخند

وزیرپانی و بجلی: ملا عبداللطیف منصور

وزیر شہری ہوا بازی اور ٹرانسپورٹ: ملا حمیداللہ اخندزادہ

وزیر دعوت و ارشاد(امربالمعروف و نھی عن المنکر): شیخ محمد خالد

وزیر فوائد عامہ: ملا عبدالمنان عمری

ہندوستان کے حکمرانوں کی تاریخ

 

غوری سلطنت سے نریندر مودی تک,

*غوری سلطنت*

1 = 1193 محمد غوری

2 = 1206 قطب الدین ایبک

3 = 1210 آرام شاہ

4 = 1211 التتمش

5 = 1236 ركن الدين فیروز شاہ

6 = 1236 رضیہ سلطان

7 = 1240 معیزالدین بہرام شاہ

8 = 1242 الہ دين مسعود شاہ

9 = 1246 ناصرالدين محمود

10 = 1266 غیاث الدین بلبن

11 = 1286 رنگ كھشرو

12 = 1287 مذدن كےكباد

13 = 1290 شمس الدین كےمرس

*غوری سلطنت اختتام*

(دور حکومت -97 سال تقریبا)

 *خلجي سلطنت*

1 = 1290 جلال الدین فیروز خلجی

2 = 1292 الہ دین خلجی

4 = 1316 شھاب الدین عمر شاہ

5 = 1316 قطب الدین مبارک شاہ

6 = 1320 ناصر الدین خسرو شاہ

*خلجی سلطنت اختتام*

(دور حکومت -30 سال تقریبا)

 *تغلق سلطنت*

1 = 1320 غیاث الدین تغلق (اول)

2 = 1325 محمد بن تغلق (دوم)

3 = 1351 فیروز شاہ تغلق

4 = 1388 غیاث الدین تغلق (دوم)

5 = 1389 ابوبکر شاہ

6 = 1389 محمد تغلق (سوم)

7 = 1394 الیگزینڈر شاہ (اول)

8 = 1394 ناصر الدین شاہ (دوم)

9 = 1395 نصرت شاہ

10 = 1399 ناصرالدين محمدشاہ (دوم)

11 = 1413 دولت شاه

*تغلق سلطنت اختتام*

(دور حکومت -94 سال تقریبا)

 *سعید سلطنت*

1 = 1414 كھجر خان

2 = 1421 معیزالدین مبارک شاہ (دوم)

3 = 1434 محمد شاہ(چہارم)

4 = 1445 الہ دين عالم شاہ

*سعید سلطنت اختتام*

(دور حکومت -37 سال تقریبا)

*لودھی سلطنت*

1 = 1451 بهلول لودھی

2 = 1489 الیگزینڈر لودھی (دوم)

3 = 1517 ابراہیم لودھی

*لودھی سلطنت اختتام*

(دور حکومت -75 سال تقریبا) 

*مغلیہ سلطنت*

1 = 1526 ظہیرالدين بابر

2 = 1530 ہمایوں

*مغلیہ سلطنت اختتام*

*سوري سلطنت*

1 = 1539 شیر شاہ سوری

2 = 1545 اسلام شاہ سوری

3 = 1552 محمود شاہ سوری

4 = 1553 ابراہیم سوری

5 = 1554 پرویز شاہ سوری

6 = 1554 مبارک خان سوری

7 = 1555 الیگزینڈر سوری

*سوری سلطنت اختتام*

(دور حکومت -16 سال تقریبا)

*مغلیہ سلطنت دوبارہ*

1 = 1555 همايوں(دوبارہ گدی نشین)

2 = 1556 جلال الدين اکبر

3 = 1605 جہانگیر سلیم

4 = 1628 شاہ جہاں

5 = 1659 اورنگزیب

6 = 1707 شاہ عالم (اول) 

7 = 1712 بهادر شاہ

8 = 1713 پھاروكھشير

9 = 1719 ريپھد راجت

10 = 1719 ريپھد دولا

11 = 1719 نےكشييار

12 = 1719 محمود شاہ

13 = 1748 احمد شاہ

14 = 1754 عالمگیر

15 = 1759 شاہ عالم

16 = 1806 اکبر شاہ

17 = 1837 بہادر شاہ ظفر

*مغلیہ سلطنت اختتام*

(دور حکومت -315 سال تقریبا)

 *برطانوی راج*

1 = 1858 لارڈ كینگ

2 = 1862 لارڈ جیمز بروس یلگن

3 = 1864 لارڈ جهن لورےنش

4 = 1869 لارڈ رچارڈ میو

5 = 1872 لارڈ نورتھبك

6 = 1876 لارڈ ایڈورڈ لٹین

7 = 1880 لارڈ جيورج ریپن

8 = 1884 لارڈ ڈفرین

9 = 1888 لارڈ هنني لےسڈون

10 = 1894 لارڈ وکٹر بروس یلگن

11 = 1899 لارڈ جيورج كرجھن

12 = 1905 لارڈ گلبرٹ منٹو

13 = 1910 لارڈ چارلس هارڈج

14 = 1916 لارڈ فریڈرک سےلمسپھورڈ

15 = 1921 لارڈ ركس ايجےك رڈيگ

16 = 1926 لارڈ ایڈورڈ ارون

17 = 1931 لارڈ پھرمےن وےلگدن

18 = 1936 لارڈ اےلےكجد لنلتھگو

19 = 1943 لارڈ اركبالڈ وےوےل

20 = 1947 لارڈ ماؤنٹ بیٹن

*برطانوی سامراج کا اختتام*🇮🇳بھارت، وزرائے اعظم,,

1 = 1947 جواہر لال نہرو

2 = 1964 گلزاری لال نندا

3 = 1964 لال بهادر شاستری

4 = 1966 گلزاری لال نندا

5 = 1966 اندرا گاندھی

6 = 1977 مرارجی ڈیسائی

7 = 1979 چرن سنگھ

8 = 1980 اندرا گاندھی

9 = 1984 راجیو گاندھی

10 = 1989 وشوناتھ پرتاپسه

11 = 1990 چندرشیکھر

12 = 1991 پيوينرسه راؤ

13 = 1992 اٹل بہاری واجپائی

14 = 1996 چڈيدے گوڑا

15 = 1997 ايل كےگجرال

16 = 1998 اٹل بہاری واجپائی

17 = 2004 منموھن سنگھ 

18 = 2014 نریندر مودی

*764 سالوں تک مسلم بادشاھت ہونے کے باوجود بھی ہندو، ھندوستان میں باقی ہیں. مسلمان حکمرانوں نے کبھی بھی ان کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا*

اور ۔۔۔۔

*ھندوں کو اب تک 100 سال بھی نہیں ہوئے اور یہ مسلمانوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں*


روح کے ڈاکٹر سے بھی علاج ضروری ہے

 " آپ مجھے صرف ساٸنسی طور پر سمجھا دیں کہ ہم مسلمان اگر کسی مردے کو دفناتے وقت زمین سے یہ کہ دیں کہ یہ جسم امانتا” دفن کیا جا رہا تو سالوں بعد بھی اس میت کی منتقلی کے وقت جب زمین کھودی جاتی ہے تو وہ مرا ہوا جسم کیوں تازہ ہوتا ہے ؟ جب کہ سائنس  کے اصولوں کے مطابق تو اس جسم کو گل سڑ جانا چاہییے تھا   وہ کون سی چیز ہے جو زمین کو اسے کھانے سے روکتی ہے ؟ " 

فون یا ایس ایم ایس کے ذریعے ایک پل میں دنیا کے دوسرے کونے تک ہیغام پہنچنے کے تو معترف ہیں لیکن ایک ماں کے دل سے نکلی ایک پکار پر ہزاروں میل دور بیٹھے اس کے بچے کے دل کی دھڑکن اچانک تیزہونے کے جواز ڈھونڈتے ہیں .چھوٹی سی ٹی وی سکرین پر لہروں کے ذریعے پہنچی زندہ تصویر پر تو یقین کرتے ہیں لیکن بند آنکھوں اور من کے اندر لگی سکرین جو دل سے دل کے تار جڑنے پر روشن ہوتی ہے قابل بھروسا نہیں سمجھتے ؟؟ ریکی اور ہاتھ سے نکلتی لہروں کے ذریعے علاج کو تو مانتے ہیں لیکن کوی ہاتھ تھام کر اس پر دم کرکے پھونک دے تو ہم شک میں پڑ جاتے ہیں ۔۔۔ اس دنیا کے ساتھ ایک متوازی دنیا بھی موجود ہے اس دنیا کو جاننے کے لیے بھی ایک ساٸنس موجود ہے جسے روحانیت کہتے ہیں  اور اس دنیا کے ساٸنس دانوں کو صوفی کہلاتا ہے۔ جیسے جسمانی درد کو دور کرنے  پین کلر کھاتے ہیں ویسے ہی وہاں کے ساٸنس روح کے درد کے لیے دعا ۔ دم ۔عبادت اور ورد کی شکل میں پین کلر تجویز کرتے ہیں " 

 ہاشم  ندیم کا فکر انگیز ناول " عبدالله " سے اقتباس

ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں

 اگر آپ صحت مند ہیں تو اللہ کا  ہر لمحہ شکر ادا کریں


ہمارے ملک کے ایک  نامور سیاست دان نے بتایا کہ‘ آصف علی زرداری نے انہیں کھانے کی دعوت دی‘ یہ دعوت پر پہنچے تو ٹیبل پر درجنوں قسم قسم کے  کھانے لگے تھے‘ان کے بقول میں نے اپنی پلیٹ اٹھائی  اور مختلف قسم کے کھانے اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگا۔ اتنی دیر میں  زرداری صاحب کا سیکرٹری آیا اور ان کا کھانا ان کے سامنے رکھ دیا‘ چھوٹی چھوٹی کولیوں میں تھوڑی سی بھنڈی‘ دال‘ ابلے ہوئے چاول اور آدھی چپاتی تھی‘ زرداری صاحب نے چند لقمے لیے اورخانساماں ٹرے اٹھا کر لے گیا‘ میں نے ان سے ان کی سادہ خوراک کے بارے میں پوچھا تو وہ ہنس کر بولے ’’میری خوراک بس بھنڈی اور سادہ چاول تک محدود ہے‘ میں ان کے علاوہ کچھ نہیں کھا سکتا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیاآپ گوشت نہیں کھاتے‘‘ وہ مسکرائے اور بولے ’’میں گوشت کھا ہی نہیں سکتا‘‘  

میں کھانا کھا کر واپس آگیا لیکن آپ یقین کریں میں اس کے بعد جب بھی کھانا کھانے لگتا ہوں تو مجھے زرداری صاحب کی ٹرے یاد آ جاتی ہے اور میں کھانا بھول جاتا ہوں۔


جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ ارشاد احمد حقانی پاکستان کےسینئر صحافی اور کالم نگارتھے‘ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے تھے‘میں نے  ان سے لکھنا سیکھا‘ شاہ صاحب نے بتایا میں 1998ء میں ایران جا رہا تھا‘ ارشاد احمد حقانی سے ملاقات ہوئی‘ انہوں نے پوچھا‘ کیا آپ مشہد بھی جائیں گے؟ میں نے عرض کیا ’’جی جاؤں گا‘‘ انہوں نے فرمایا ’’آپ میرے لیے وہاں خصوصی دعا کیجیے گا‘‘میں نے وعدہ کر لیا لیکن اٹھتے ہوئے پوچھا ’’آپ خیریت سے تو ہیں؟‘‘ حقانی صاحب دکھی ہو کر بولے ’’میری بڑی آنت کی موومنٹ رک گئی ہے‘ پاخانہ خارج نہیں ہوتا‘ میں روز ہسپتال جاتا ہوں اور ڈاکٹر مجھے بیڈ پر لٹا کر مشین کے ذریعے میری بڑی آنت سے پاخانہ نکالتے ہیں اور یہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے‘‘ شاہ صاحب نے اس کے بعد کانوں کو ہاتھ لگایا‘ توبہ کی اور کہا ’’ہمیں روز اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے‘ ہم اپنے منہ سے کھا بھی سکتے ہیں اور ہمارا کھایا ہوا ہمارے پیٹ سے نکل بھی جاتا ہےورنہ دنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگ اپنی مرضی سے کھا سکتے ہیں اور نہ نکال سکتے ہیں‘‘


 یہ بات سن کر مجھے بے اختیار چودھری شجاعت حسین یاد آگئے‘ چودھری صاحب خاندانی اور شان دار انسان ہیں‘ میرے ایک دوست چند دن قبل ان کی عیادت کے لیے گئے‘ چودھری صاحب خوش تھے اور بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے‘ میرے دوست نے صحت کے بارے میں پوچھا تو چودھری صاحب نے جواب دیا ’’میں بہت امپروو کر رہا ہوں‘ میں اب اپنے منہ سے کھا بھی لیتا ہوں اور اپنےپائوں پر کھڑا بھی ہو جاتا ہوں‘‘ دوست نے پوچھا ’’ آپ کی حالت اس سے پہلے کیسی تھی؟‘‘ چودھری صاحب بولے ’’میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھاتی تھیں اور میرے پیٹ میں ٹیوب لگی ہوئی تھی‘ ڈاکٹر مجھے اس کے ذریعے کھلاتے تھے‘ میں منہ کے ذائقے کو ترس گیا تھا‘ الحمد للہ میں اب تھوڑا تھوڑا کر کے کھا بھی لیتا ہوں اور چل پھر بھی سکتا ہوں‘‘ 

جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ

 میں بینک کے ایک مالک کو جانتا ہوں‘ یہ صبح جاگتا ہے تو چار بندے ایک گھنٹہ لگا کر اسے بیڈ سے اٹھنے کے قابل بناتے ہیں‘ یہ اس کے پٹھوں کا مساج کر کے انہیں اس قابل بناتے ہیں کہ یہ اس کے جسم کو حرکت دے سکیں‘ اس کی گاڑی کی سیٹ بھی مساج چیئر ہے‘ یہ سفر کے دوران اسےہلکا ہلکا دباتی رہتی ہے اوران کے دفتر اور گھر دونوں جگہوں پر ایمبولینس ہر وقت تیار کھڑی رہتی ہے‘ آپ دولت اور اثرورسوخ دیکھیں تو آپ رشک پر مجبور ہوجائیں گے اور آپ اگر اس کی حالت دیکھیں تو آپ دو دوگھنٹے توبہ کرتے رہیں‘ 


اسی طرح پاکستان میں ہوٹلز اور موٹلز کے ایک ٹائی کون ہیں‘ صدرالدین ہاشوانی‘ یہ پانچ چھ برسوں سے شدید علیل ہیں‘ ڈاکٹر اورفزیو تھراپسٹ دونوں ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں‘ ان کے پرائیویٹ جہاز میں ان کے ساتھ سفر کرتے ہیں‘ فزیو تھراپسٹ دنیا جہاں سے ان کے لیے فزیو تھراپی کی مشینیں تلاش کرتے رہتے ہیں‘ مجھے جرمنی کے شہر باڈن جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ مساج اوردیسی غسل کا ٹاؤن ہے‘ شہر میں مساج کے دو دو سو سال پرانے سنٹرہیں اور دنیاجہاں سے امیر لوگ مالش کرانے کے لیے وہاں جاتے ہیں‘ چھ چھ ماہ بکنگ نہیں ملتی ‘ آپ وہاں لوگوں کی حالت دیکھیں تو آپ کی نیند اڑ جائے گی‘ مریض کے پروفائل میں دس دس بلین ڈالر کی کمپنی ہوتی ہے لیکن حالت دیکھیں گے تو وہ سیدھا کھڑا ہونے کے قابل بھی نہیں ہوتا‘ہم انسان ایک نس کھچ جانے کے بعد اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتے‘ ہم چمچ تک نہیں اٹھا پاتے اور نگلنے کے قابل نہیں رہتے‘ یہ ہماری اصل اوقات ہے۔

تو پھر کس بات کا غرور اور فخر 

توبہ کرتے رہیں معافی مانگتے رہیں 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے رہیں 

اور اس کے سامنے اپنا سر جھکاتے رہیں۔

Monday, August 9, 2021

جنات کا سائنسی تجزیہ

 (جنات کا سائنسی تجزیہ 

‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ، وہ آگ سے پیدا کیے گئے ، ان میں شیاطین و نیک صفت بھی موجود ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟ 


لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔ جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں

‏جو (electromagnetic spectrum) بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔ میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔ 


اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔ اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔


‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔


کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔ جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔ 


ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔ جانور ، سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ، الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔ امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔ جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔ درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs  نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔


‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق  نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔


‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔ پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔ اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔ 


البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔ اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔ ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئینسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔ 


سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔ اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔ پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ، صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔


جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔ ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ 


انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔ 


اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔ 

اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔ 

پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا

آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔ اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔


اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔


بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ، یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا  اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔ یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ، یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ، یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ، یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔ 


ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ، لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔


الحمد للہ رب العالمین ۔

 تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا .

پارلیمنٹ کی سپرمیسی اور ادارے۔۔۔؟

 اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی  کے بیان  کہ"  عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ سمیت تمام ستون گر چکے ہیں ،عدلیہ کا ستون ہ...