Sunday, October 15, 2017
inam alvi: How To Make Synopsis .........A glance at the stru...
inam alvi: How To Make Synopsis .........A glance at the stru...: TOPIC: Pak China Relations in Contemporary War on Terror Introduction of Research Scholar: I...
Friday, October 6, 2017
Saturday, September 30, 2017
Sunday, September 24, 2017
Sunday, August 20, 2017
شیر کی سواری,,,,,,,,,,,,,,, زہریلا سچ..................نوشاد حمید
پُرانے زمانے میں رواج تھا کہ چورکے پکڑے جانے پر اُسے خوب ڈانٹ ڈپٹ اور مار کُٹ کی جاتی، پھر اُس کا منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھا کر پُورے شہر میں پھرایا جاتا، یوں اس حد درجہ کی رُسوائی سے دُوسرے جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہوتی اور جرائم میں کمی واقع ہوتی۔ پر اب کی بار کچھ الگ معاملہ ہی دیکھنے کو ہوا ہے۔ عدالت سے چور اور مجرم قرار پانے والا خود اپنی رُسوائی کا جلوس لے کر بڑے اہتمام سے نکلا۔ افراد تو کم ہی تھے بس اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت وبلتستان سے ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں ضرور اکٹھی کر لی گئیں، جن میں سے بیشتر چوری کی یا اسمگل شدہ تھیں۔ ان گاڑیوں میں بھی اکثر میں ڈرائیور کے علاوہ اور کوئی ذی نفس دیکھنے کو نہیں مِلا۔ سو سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے ساتھ ایک سزا یافتہ چور کا جلوس بڑی ’شان‘ سے روانہ ہوا۔ جوں جوں قافلہ آگے بڑھتا رہا، شرکاء کی تعداد میں کمی واقع ہوتی رہی۔ ہاں سڑکوں کے کنارے ایک جمِ غفیر اس عدالتی مجرم کو بطور عبرت دیکھنے کے لیے اکٹھا ضرور ہوتا تھا، لوگ تو دیکھنا چاہتے تھے کہ جُرم پکڑے جانے اور سزا مِلنے کے بعد کوئی شخص کتنا خفت زدہ اور شرمندہ معلوم ہوتا ہے۔ کیا اسے اپنی کیے پر کوئی پشیمانی بھی ہے یا نہیں۔ مگر سابقہ وزیر اعظم لوگوں کو ہجوم کو اپنی پذیرائی کا انداز سمجھ کر خوش ہوتا رہا اور من ہی من میں اسٹیبلشمنٹ، جس کا یہ بذاتِ خود پروردہ ہے اور دیگر ریاستی اداروں کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کا پروگرام ترتیب دیتا رہا۔ دُنیا کی تاریخ میں شاید یہ پہلی مثال ہو گی جب حکومت نے اپوزیشن کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔
ویسے ابھی تک صاحبِ عقل و فہم حیرانی کے عالم سے باہر نہیں آ رہے کہ یہ لانگ مارچ کس کے خلاف تھا؟ اپنی ہی جماعت کی حکومت اور کٹھ پُتلی وزیر اعظم کے خلاف؟ اپنی کرپشن سے دلبرداشتہ ہوئی عوام کے خلاف ؟ یا برادرِ خورد شہباز شریف کو یہ بتانا مقصود تھا کہ معزولی کے بعد بھی سیاسی طاقت کا منبع نواز شریف کی ذات ہی ہے۔ سو چھوٹا بھائی اپنی کریز میں رہ کر ہی کھیلے اور کپتانی کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ مگر ان میں سے کسی ایک پلان میں بھی کامیابی کے لیے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اُلٹا عوام اور میڈیا کو یہ معلوم ہو گیا کہ اس وقت درجہ سوم کے معدودے چند سیاست دانوں اور موقع پرستوں کے علاوہ کوئی اہم سیاسی لیڈر نواز شریف کے ساتھ نہیں ہے۔ چودھری نثار پہلی دفعہ بہت زیادہ کھُل کر سامنے آئے جب انہوں نے برملا کہا کہ 99 فیصد نواز لیگی رہنما اس ریلی کے حامی نہیں ہیں۔ بڑے بڑے اہم سیاسی بُرج نواز شریف کی اس ریلی سے کنّی کتراتے نظر آئے۔ غالباً انہیں احساس ہو گیا کہ نواز شریف کی سیاسی سفینہ غرقابی کے قریب ہے سو اس سفینے میں مزید ٹھہرنا عوام کی نظروں میں رُسوائی اور اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے۔ اس لحاظ سے نواز شریف کو اپنی دم توڑتی سیاسی طاقت کا صحیح اندازہ ہو گیا ہو گا۔ شاید اب آ کر نواز شریف اپنی انا کے خول سے باہر آ گیا ہے، مگر ڈھٹائی اور میں نہ مانوں والی پالیسی برقرار رہے گی۔ کیونکہ مسئلہ اب وزارتِ عظمیٰ سے زیادہ اپنی جان بچانے کا ہے اور محاذ آرائی کا سارا سٹیج اسی لیے سجایا گیا ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ معصوم حمزہ جس گاڑی کے نیچے آ کر ہلاک ہوا، اس گاڑی میں معزول وزیر اعظم نواز شریف بذاتِ خود سوار تھا۔اگر اس قاتل گاڑی میں کوئی اسمبلی ممبر سوار ہوتا تو یہ فوراً اُسے گرفتار کروا کے اپنی بلّے بلّے کروا دیتے۔ اور اگر گاڑی خالی جا رہی ہوتی تو ڈرائیور کو ضرور گرفتار کرواتے۔ کیونکہ یہ اپنی ماضی کی روایت کے مطابق اپنی جماعت کے کسی ایم این اے، ایم پی اے کی کرپشن یا کوئی اور جُرم بے نقاب ہو جانے پر اُسے خود گرفتار کرواتے رہے تاکہ عوام میں یہ تاثر قائم رکھا جائے کہ اُن کے عظیم قائدین کرپشن اور مجرمانہ سرگرمی کو برداشت کرنے کو قطعاً تیار نہیں۔ ستم یہ ہے کہ بچے کو کچلنے کے بعد رُکنا تک گوارا نہیں کیا گیا۔
برصغیر کے عظیم اداکار دلیپ کمار نے ایک دفعہ انٹرویو میں بتایا کہ فلم مغلِ اعظم کی شوٹنگ کے دوران وہ اتنے کامل طریقے سے جہانگیر کے کردار میں ڈھل گئے تھے کہ فلم مکمل ہونے کے چھے ماہ بعد تک بھی وہ اپنے آپ کو شہنشاہ جہانگیر خیال کرتے رہے اوران پر سے یہ کیفیت چھٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ حتیٰ کہ اُنہیں اس صورتِ حال سے باہر آنے کے لیے ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا پڑا۔ عین یہی کیفیت اس وقت اقتدار سے معزول نواز شریف کی ہو چکی ہے۔ اسے اپنی کئی دہائیوں پر محیط بادشاہت کا یوں ذِلت انگیز انداز میں اختتام ہو جانے کا یقین نہیں آ رہا۔ نواز شریف کے ’معصومانہ‘ سوالات ’مجھے کیوں معزول کیا گیا؟ مجھے کیوں نکالا گیا‘ پر جواب آں غزل کے طور پر اس وقت سوشل میڈیا پر بہت ہی ہیبت ناک قسم کے چٹکلے گردش میں ہیں۔
ویسے ابھی تک نواز شریف دانت پِیس رہا ہے کہ اُس کی ساری سیاست جی ٹی روڈ کے اِرد گرد گھومتی ہے اور اسی روڈ پر اُس کی سیاست کی تکفین و تدفین ہو گئی۔ اپنی سیاسی بقاء کی خاطر جس لانگ مارچ کو وہ چشمۂ آبِ حیات سمجھا تھا درحقیقت وہ اُس کے لیے زہرِ ہلاہل ثابت ہوا۔ عاقبت نااندیش مشیروں نے اُسے ایک بار پھر مروا دِیا۔ نواز شریف کی سیاسی اہلیت و بصیرت کا اندازہ بھی اسے بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چودھری نثار علی خان نے اُسے جن مارِ آستین مشیروں وزیروں سے دُور رہنے کا مشورہ دِیا تھا، اور اُنہیں اس کی سیاسی تباہی و بربادی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، اُنہی چار پانچ لوگوں کو نئی کابینہ میں بہترین عہدوں پر فائز کر دیا۔ کیونکہ قابلیت کا معیار قائد کی خیر خواہی نہیں، بلکہ اُس کی خوشامد اور قدم بوسی قرار پائے۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
آلِ شریف نے اپنے تمام بڑے بزرگوں اور رشتہ داروں کی قبریں جاتی عمرہ میں ہی بنوائی ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ نواز شریف کا اسلام آباد سے واپس جاتی عمرہ آنے کا مقصد اپنی سیاست اور شخصیت کو خود اپنے ہاتھوں دفنانے کا اہتمام کرنا تھا۔ تاکہ اپنی سیاست کے مزار پر آہ و زاری کرنے اور فاتحہ پڑھنے کے لیے کہیں دُور جانے کی زحمت نہ کرنی پڑے۔
نواز لیگیوں کی ریلی کے دوران نوا ز لیگی ممبرانِ اسمبلی کی اپنے قائد سے وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اُس کے آخری سیاسی استقبال پر ایک کوڑی خرچنے کو تیار نہیں تھے۔ لاہور کی سیاسی قیادت نے مسلم لیگ کے ٹریڈرز وِنگ کے تاجروں سے رابطے کر کے اُنہیں کروڑوں روپیہ چندہ اکٹھا کرنے کا ٹاسک دیا۔ سو جنہیں پہلے سے سُوہ مِل گئی تھی اُنہوں نے تو فون ہی نہیں اُٹھائے۔ اوران میں سے کچھ عین موقع پر کاغان ناران، مری اور دیگر پُرفضا مقامات پر روانہ ہو گئے اور اُن کے فون بھی بندہو گئے۔ شاید اسی کو عوامی اور تجارتی طبقہ میں مقبولیتِ بے پناہ کا نام دِیا جاتا ہے۔ شہروں میں چند سو تماشبین ضرور اکٹھے ہو گئے وہ بھی عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے ہونے والے پیسوں کو لُوٹنے کے لیے، جنہیں ممبران اسمبلیشادی بیاہ کے موقع پر ویلوں کی طرح لُٹا کر کچھ رونق میلہ قائم رکھنے کے جتن میں لگے رہے۔مگر جب قافلہ شہر سے باہر نکلتا تو وہی ویرانی، سُنسانی دیکھنے کو مِلتی جس کا آغاز قافلے کے اسلام آباد راولپنڈی سے نکلتے وقت ہی ہو گیا تھا۔ پنجاب کی ساری انتظامیہ شہباز شریف کے ہاتھ میں تھی۔ اگر وہ چاہتا تو پٹواریوں، سرکاری ملازموں اور گلو بٹوں پر نوٹوں کی برسات کر کے اچھی خاصی تعداد میں بندے اکٹھے کر لیتا۔ مگر اس کی جانب سے ہر شہر کے پارٹی عہدے داروں کو یہی ہدایات جاتی رہیں کہ بس ’گونگلوئوں‘ سے مٹی جھاڑنی ہے۔ زیادہ ’کھیچل نہیں کرنی۔ اور شہباز شریف محنت کرتا بھی کیوں، جب کہ اُسے پتا لگ چکا ہے کہ نواز شریف کے پاس جب تک اختیار ہے، وہ اُسے یا اُس کی اولاد میں سے کسی کو بھی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہونے دے گا۔ سو یہ وقت تو شہباز شریف کا اپنے بڑے بھائی کی مطلق العنانیت سے آزادی کا ہے۔ یہ وقت نواز خاندان سے شہباز خاندان کی طرف ولی عہدی کی منتقلی کا اِکلوتا موقع بن کر اُبھرا ہے۔ اس بار کے یومِ آزادی پر جتنا جشنِ شہباز شریف نے منایا ہے، شاید ہی کسی اور نے منایا ہو، کیونکہ اس جشن میں نواز شریف کی معزولی کے ساتھ ساتھ، حالیہ فلاپ مارچ کی ناکامی نے خوشیوں کو دوبالا کر دیا ہے۔
پہلی بار نواز شریف اپنے پروٹوکول اور دوسری مراعات کے لیے شہباز شریف کا محتاج بن کر رہ گیا ہے۔ دیکھیں اب کیا بنتی ہے، اور کب ساجھے داری کی یہ ہنڈیا بیچ چوراہے پھُوٹتی ہے۔شہباز شریف دکھاوے کے لیے لاہور میں تقریر کر گیا،پُوری تحریک اور ریلی سے کنارہ کش رہنے والا برخوردار حمزہ شہبازنے بھی حاضری دے دی، مگر یارانِ نکتہ دان نے اشارے سمجھ لیے ہیں۔ ابھی بھی نواز شریف کے مُٹھی بھر حامی اگر اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ شریف خاندان متحد اور ایک پیج پر ہے، اُن کا یہ گمان مستقبل قریب میں شکست سے دوچار ہونے ہی والا ہے ۔ ذلت اور رُسوائی ان کے مرنے کے بعد بھی زندہ رہے گی۔ پُوری دُنیا میں ان کا تماشا لگ گیا ہے۔ یہ اب کسی اور مُلک میں سرمایہ کاری کرنے کے تو کیا رہائش رکھنے کے بھی قابل نہیں رہے۔ انہیں اب سزا دینے یا جیلوں میں ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ مزید ذلت سے بچنے کے لیے خود کو جاتی عمرہ میں نظر بند کر لیں گے۔ ان کی آئندہ کئی نسلوں کو ان کی کرپشن اور لُوٹ مار کے نتیجے میں مِلنے والی ذلت و رُسوائی کا عذاب سمیٹنا پڑے گا۔
Tuesday, August 1, 2017
Friday, July 21, 2017
بے لباس بادشاہ.....................نوشاد حمید................ زہریلا سچ
قارئین اس مشہور و معروف حکایت سے یقینا واقف ہوں گے جس میں ایک ایسے بادشاہ کا ذکر ہے جو دُوسرے مُلک سے آئے ٹھگوں کے ہاتھوں بے وقوف بنتا ہے۔ وہ یوں کہ ٹھگ بادشاہ سے کہتے ہیں کہ اُن کے پاس ایسا لباس ہے کہ جسے صرف عقلمند ہی دیکھ سکتے ہیں، بیوقوف کو وہ نظر نہیں آتا۔ اور یوں وہ بادشاہ کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھنسا کر اُسے ننگا کر کے اپنا نام نہاد جادوئی لباس پہنانے کی اداکاری کرتے ہیں۔ چونکہ بادشاہ کے درباریوں میں سے کوئی بھی خود کو بیوقوف کہلوانے کو تیار نہیں ہوتا، اس لیے سارے بادشاہ کے تن پر اَن سجے لباس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانا شروع کر دیتے ہیں۔ بادشاہ ان ٹھگوں کو شاہی خزانے سے بیش بہا ہیرے جواہرات دے کر رخصت کر دیتا ہے اور پھر اپنے محل سے باہر نکل کر رعایا کو اس خاص لباس کے درشن دینے جاتا ہے۔ رعایا بادشاہ کو عریاں حالت میں دیکھ کر بھی خوف کے عالم میں زبان سے ایک لفظ ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتی۔ مگر ہماری اس مملکتِ پاکستان میں ایک پٹھان، بادشاہ کو دیکھ کر پُکار اُٹھتا ہے کہ بادشاہ ننگا ہے۔ اس پٹھان کو چُپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر وہ پھر بھی پُکار رہا ہے۔ اب جا کر بادشاہ کو احساس ہوا ہے کہ اُسے ٹھگوں نے تو بے وقوف بنایا ہی بنایا ہے، مگر اس ناٹک میں اُس کے درباریوں نے بھی اُسے مطلق اندھیرے میں رکھا۔ یہ عقل مند بادشاہ ہے ماضی کا خود ساختہ امیر المومنین، قوم کا اِکلوتا نجات دہندہ اور قائد اعظم ثانی عزت مآب میاں محمد نواز شریف۔ ہر نااہل آدمی کے ساتھ یہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ اُسے اپنی قابلیت پر یقین نہیں ہوتا سو وہ اپنے ارد گرد ایسے خوشامدی اور مداری اکٹھے کر لیتا ہے جو اُسے اُس کے عظیم ترین ہونے کا یقین دلاتے رہیں۔ اُسے عقلِ کُل اور ناگزیرِ سلطنت قرار دیتے رہیں۔ ایک ایسی شخصیت جس کے بغیر خدانخواستہ مُلک کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ سو’مُلکی سا لمیت‘ اور ’عظیم تر قومی مفاد‘ کی خاطر شخصی اقتدار کو طول دینے کا ایک غیر جمہوری ایجنڈا اپنا کر ہر جائز ناجائز حربہ اپنایا جاتا ہے۔ مگر جس طرح کوئی بحری جہاز ڈوبنے لگے تو سب سے پہلے اس جہاز کے اندر چوہے اُسے چھوڑ کر رخصت ہوتے ہیں۔ یہی حال ان سیاسی چوہوں کا ہوتا ہے جو حکمران کو اندھیرے میں رکھ کر اقتدار کی چُوری میں سے اپنا حصّہ کُترتے رہتے ہیں مگر اقتدار کی نیّا ڈولنے لگے تو فٹا فٹ سب کچھ سمیٹ لپیٹ کر دُوسرے سیاسی بیڑے میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اور اپنے سابق آقا کی سیاسی کشتی کی رُسوائی اور ذِلت کے سمندر میں غرقابی کے منظر کو دُور سے خندہ لب دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ اور پھر خوشامدوں کا سلسلہ اگلے آقا کی سیاسی موت تک جاری رہتا ہے۔
نواز شریف موجودہ دور کا نیرو ہے۔ اس میں اقتدار کسی اور کو سونپنے کا حوصلہ نہیں۔ اب جب کہ اسے یقین ہو چلا ہے کہ اقتدار کا ہُما اُس کے سر سے رخصت ہونے والا ہے اور مستقبل میں اُس کے خاندان کے کسی اور فردکے سر پر حکمرانی کا تاج نہیں سجے گا تو اُس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ جاتے جاتے نیرو کی مانند مُلکی سلامتی، ریاست کے وقار اور اداروں کے تقدس کو اپنے انتقام کی آگ میں پُوری طرح بھسم کر کے جائے گا۔ آنے والے کے لیے اقتدار پھولوں کا تاج نہیں بلکہ کانٹوں کا جال ثابت ہو گا۔ اس اہم موڑ پر نواز شریف کو جتنا وقت زیادہ مِل رہا ہے، مُلک و قوم کے لیے اتنا ہی مہلک اور نقصان دہ ہے۔ کیونکہ اگر اسے اپنے خوفناک منصوبوں پر عمل درآ مد کا وقت مِل گیا تو پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر محاذ آرائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے بیرونِ مُلک ہمدرد جن میں بہت سے پاکستان دُشمن افراد اور ادارے شامل ہیں، اس کی امداد میں کامیاب ہو گئے تو اگلے چند ماہ پاکستان کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاناما کیس کا فیصلہ جتنی جلدی آ جائے اُتنا ہی بہتر ہے۔
نواز شریف اپنے آخری دائو کھیل رہا ہے۔ ان آخری دائو میں سے ان کا ایک پسندیدہ اور آزمودہ دائو جلائو گھیرائوکے ذریعے سیاسی عدم استحکام کی صورتِ حال کو جنم دینا ہے۔ جس کی بدولت یہ ماضی میں مخالف حکومتوں کو گھُٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتے رہے۔ مگر ایک پریشانی آ کھڑی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ آج ان کے پاس وہ ہزاروں سر پھرے کارکن نہیں ہیںجو ان کی ایک صدا پر اپنا تمام تر مستقبل اور معاش دائو پر لگانے کو تیار ہو جاتے تھے۔ جو شریفوں کے ایک اشارہ ابرو پر اپنی عزت وناموس کی پرواہ کیے بغیر میدانِ کارزار میں کُودجاتے تھے۔ سپریم کورٹ پر ہلّہ بولنا ہو، تحریک نجات میں پیپلز پارٹی کی حکومت اُلٹانی ہو، پولیس کی گولیوں اور ڈنڈوں سوٹوں کا مقابلہ کرنا ہو، عدلیہ بحالی تحریک کے پردے میں زرداری حکومت کی رِٹ کو متاثر کرنا ہو، سرکاری املاک کو نذرِ آتش کرنا ہو، مخالفین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا ہو، غرضیکہ جلائو گھیرائو اور محاذ آرائی کی سیاست کے انجن میں ان کارکنوں کے خون پسینے کو بطور ایندھن بھرا جاتا تھا اور پھر کام کی تکمیل کے بعد انہیں طاقِ فراموشی پر رکھ دیا جاتا تھا۔ کارکن اپنے لیڈروں کی تلاش میں سرگرداں رہتے، مگراقتدار کے چاند پر براجمان لیڈر زمین کی اس ادنیٰ مخلوق سے کیسے مِل سکتے تھے۔ 2013ء کے آر اوز الیکشن کے بعد انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب کارکنوں کی بھی ضرورت نہیں۔ بس پیسہ خرچو اور اُوپری سطح پر معاملات طے کر لو۔ پر خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ پاناما کیس تیار ہو گیا۔ جس نے معاملات کو نوّے کی دہائی کی سیاست میں لا کھڑا کیا۔ اب ان کی سیاسی گیم اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے تو آج انہیں دھتکارے، لتاڑے کارکنوں کی یاد بے طرح آ رہی ہے۔ فون کھڑکائے جا رہے ہیں۔ دروازوں پر جا کر رابطے کیے جا رہے ہیں۔ پتا لگتا ہے کہ کچھ بیچارے تو ذِلت اور بھوک کے ہاتھوں تنگ آ کر زندگی ہار بیٹھے۔ کچھ نے سیاست سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔ اور کچھ نے ایسی پارٹیوں میں جگہ بنالی جہاں اُنہیں مقام و مرتبہ مِلتا تھا ۔ یہ پُورا زور لگا رہے ہیں مگر انہیں کارکن دستیاب نہیں ہو رہے۔ چند خوشامدی وزراء و مشیران کے علاوہ ان کے ساتھ کوئی کھڑا نظر نہیں آ رہا۔اس وقت نواز شریف کو اپنے سیاسی جنازے پر بین ڈالنے والے بھانڈوں کی نہیں، بلکہ کفن پوش جنگجوئوں کی ضرورت تھی۔ نام نہاد یوتھ وِنگ کی جانب سے جے آئی ٹی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں پندرہ بیس سے زیادہ لوگ نظر نہیں آتے اور ’نوجوانوں‘ کے اس مظاہرے میں کوئی بھی پچاس سال کی عمر سے نیچے نہیں ہوتا۔ یہ ہے ان کی نوجوان نسل میں مقبولیت اور ان پر اثرات۔ فرعونِ وقت کی رعونت کس طرح پاش پاش ہو چکی ہے کہ یہ کارکنوں کو فون کرتے ہیں تو کوئی ان کا فون اُٹھانے کو تیار نہیں ہوتا۔ اور اُٹھا بھی لے تو آئیں بائیں شائیں کر کے ٹال رہا ہے۔ کیونکہ سارے ان کی فطرت سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں کہ یہ کس طرح سے انہیں استعمال کر کے ٹشو پیپر کی طرح دانستہ فراموشی کی ڈسٹ بِن میں پھینک دیں گے۔ یقینا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ شریف برادران جو کئی مرتبہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے عہدوں پر براجمان رہے۔ ہر سیاہ سفید کے مالک رہے۔ اُن کے پاس احتجاج کرنے کی خاطر چند سو کارکن بھی میسر نہیں۔ مان لیا کہ کرپٹ ہیں، جھوٹے ہیں، سازشی ہیں۔ مگر اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی والے بھی کرپٹ تھے، اس کے باوجود سندھ میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان کارکن ان کے ایک اشارہ پر مر مٹنے کو تیار ہیں۔ نواز شریف نے کبھی عوام اور کارکنوں میں اپنی جڑیں بنانے کی کوشش ہی نہیں کیں، ہمیشہ پیسے کی چمک اور لوگوں کی خرید و فروخت پر انحصار کیا۔ کچھ عرصہ پہلے تک بھی انہیں کارکنوں کی یاد نہ آئی کیونکہ اسی زعم میں مبتلا تھے کہ عدلیہ، میڈیا، انتظامیہ جہاں جہاں ضرورت پڑی، چمک کام دے جائے گی۔ مگر قدرت سب سے بڑی منصوبہ ساز ہے۔ اس کے فیصلوں کے آگے سارے قارون، فرعون و شداد بے بس ہو جاتے ہیں۔ آج ان پر ان کی کرتوتوں کی باعث بڑی مشکل آن پڑی ہے۔ کارکن تو بیچارے مظلوم تھے، کروڑوں اربوں سمیٹنے والے ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی بھی ان سے جان چھُڑانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔چند روز میں استعفوں کی مُوسلادھار بارش ہونے کو ہے۔ اطلاعات کے مطابق چند ایسی اعلیٰ شخصیات کے بھی استعفے تیار ہیں جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ یعنی گھر کے بھیدی ہی لنکا ڈھانے کو تیار ہیں۔ کوئی رشتے داری، کوئی قُربت کام نہیں آئے گی۔میڈیا پر ان کی صفائیاں پیش کرنے والے ممبران اسمبلی اور ترجمانوں میں سے ایک قبیل تو فصلی بٹیروں کی ہے جو بہت جلدی اُڑ جائیں گے دُوسرے کچھ مجبور قسم کے ممبرانِ اسمبلی ہیں جو جانتے ہیں کہ نواز شریف کی کرپشن کی صفائی پیش کرنا جُوئے شیر لانے سے کم نہیں، پھر بھی نوکری بچانے کی خاطر اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے وزیر مشیر تو نالائق تھے ہی، اس سے زیادہ نالائق ان کے وکلاء ہیں۔ جن کی ججوں کے سامنے بودے دلائل دیتے ہوئے گھگی بندھ جاتی ہے مگر باہر آ کر بڑھکیں مارتے پھرتے ہیں۔ اعتماد کا یہ عالم ہے کہ اخباری رپورٹس کے مطابق اس وقت ایک سول انٹیلی جنس ادارے کو اُن سو کے قریب ارکانِ صوبائی و قومی اسمبلی کی خفیہ نگرانی پر لگا دیا گیا ہے جن کے بارے میں قوی امکان ہے کہ وہ مسلم لیگ نواز کو عنقریب داغِ مفارقت دینے والے ہیں یا پھر اُن کا فارورڈ بلاک تشکیل پا رہا ہے۔ یہ ہے ان کی نام نہاد جمہوری پارٹی اور اپنے ممبرانِ اسمبلی پر اعتماد کی تشویش ناک صورتِ حال۔
سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کی ہنگامہ خیزی تو کچھ بھی نہیں،ابھی تو ہولناک انکشافات کے زیادہ خوفناک دھماکے ہوں گے۔ ابھی تو اور بہت سی دستاویزات زیرِ بحث ہی نہیں آئیں، جب ان پر بات ہو گی تو معلوم ہو گا کہ کرپشن کے پیسے کن گھنائونے اور انسانیت دُشمن کاموں میں استعمال ہوئے، بڑی دِل دہلا دینے وال داستانیں باہر آئیں گی۔ جے آئی ٹی ممبران کے پاس ایسے حقائق آ گئے ہیں، جن کی انہیں بھی توقع نہیں تھی۔وہ اس وقت خوف کی ایسی فضا میں ہیں کہ اپنی فیملیز کو سیکیورٹی خدشات کے باعث بیرونِ ملک شفٹ کر چکے ہیں اور خود بھی جان بچانے کی خاطر کچھ عرصہ مُلک سے باہر رہنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس وقت نواز شریف اکیلا کھڑا ہے اُس کے اپنے عزیز و اقارب بھی اس سیاسی بحران میں اُس سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔سپریم کورٹ میں ہونے والا فیصلہ وزیر اعظم کے خلاف نہیں، بلکہ پُوری مسلم لیگ نواز کٹہرے میں کھڑی ہے۔ نواز شریف اپنی ہی تخلیق کردہ بدعنوانی کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ آج اُسے اپنے وہ جانثاراور سرفروش کارکن ضرور یاد آ رہے ہوں گے جن کے ساتھ اُس نے پُورے سیاسی کیریئر میں کبھی وفا نہیں کی۔ نواز شریف کی ہار اُس کے دُھتکارے ہوئے کارکنوں کی جیت ہے۔
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
Subscribe to:
Posts (Atom)
پارلیمنٹ کی سپرمیسی اور ادارے۔۔۔؟
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کے بیان کہ" عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ سمیت تمام ستون گر چکے ہیں ،عدلیہ کا ستون ہ...
-
TOPIC: Pak China Relations in Contemporary War on Terror Introduction of Research Scholar: I...
-
In September 11 assaults on the U.S., China has propelled its own "war on fear." Beijing now names as terrorists the...
-
If u have a dental problem then it would be a very difficult work to solve it in the government hospital in Lahore,Pakistan.it is been a l...

